MOJ E SUKHAN

اپنے سارےخواب گنوا کر آئے ہیں

اپنے سارےخواب گنوا کر آئے ہیں
پھر بھی کچھ تو نام کما کرآئے ہیں

تھوڑی سی تاخیر سے پہنچے ہیں لیکن
اپنا رستہ آپ بنا کر آئے ہیں

لوگ تری تصویر سے باتیں کرتے ہیں
ہم تیری آواز سنا کر آئے ہیں

ہم نے خود سے پہلے منزل پانا تھی
رستے کو رفتار بنا کر آئے ہیں

گھر کی بات تھی گھر میں ہی رکھی انصر
دل کو دل کا حال سنا کر آئے ہیں

انصر رشید انصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم