MOJ E SUKHAN

اپنے گرنے کی خبر تک نہیں پائی میں نے

غزل

اپنے گرنے کی خبر تک نہیں پائی میں نے
آخری دوڑ میں وہ جان لگائی میں نے

سانس کو سانس ہی مرنے نہیں دیتی ہے یہاں
کوششیں کر کے بہت دیکھ لیں بھائی میں نے

وقت ہی وہ ہے کہ مجرم مجھے سمجھا جائے
کچھ نہیں ہوگا اگر دی بھی صفائی میں نے

تیری صبحوں کو تر و تازگی دینے کے لیے
رات کی رات ان آنکھوں سے بہائی میں نے

سرد راتوں کا تقاضا تھا بدن جل جائے
پھر وہ اک آگ جو سینے سے لگائی میں نے

تو مجھے گھورتی آنکھوں سے تکے جا رہا ہے
جھوٹ بولا ہے کوئی بات بنائی میں نے

قمر عباس قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم