MOJ E SUKHAN

اپنے ہی خون سے اس طرح عداوت مت کر

غزل

اپنے ہی خون سے اس طرح عداوت مت کر
زندہ رہنا ہے تو سانسوں سے بغاوت مت کر

سیکھ لے پہلے اجالوں کی حفاظت کرنا
شمع بجھ جائے تو آندھی سے شکایت مت کر

سر کی بازار سیاست میں نہیں ہے قیمت
سر پہ جب تاج نہیں ہے تو حکومت مت کر

خواب ہو جام ہو تارہ ہو کہ محبوب کا دل
ٹوٹنے والی کسی شے سے محبت مت کر

دیکھ پھر دست ضرورت میں نہ بک جائے ضمیر
زر کے بدلے میں اصولوں کی تجارت مت کر

پرسش حال سے ہو جائیں گے پھر زخم ہرے
اس سے بہتر ہے یہی میری عیادت مت کر

سر جھکانے کو ہی سجدہ نہیں کہتے داناؔ
جس میں دل بھی نہ جھکے ایسی عبادت مت کر

عباس دانا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم