MOJ E SUKHAN

اچھا تو ہے مگر ہمیں اچھا نہیں لگا

اچھا تو ہے مگر ہمیں اچھا نہیں لگا
یہ شہر جس میں کوئی بھی اپنا نہیں لگا

بیٹھے ہوئے ہیں خاک پہ خلوت کی چھاؤں میں
صحرا بھی میرے جیسوں کو صحرا نہیں لگا

اپنی جہاں پہنچ تھی وہاں تک پہنچ گئے
یہ اور بات ہے ابھی کتبہ نہیں لگا

مرنے کے انتظار میں بیٹھے تھے آج بھی
نمبر تو لگ رہے تھے, پر اپنا نہیں لگا

ہم ہی سمجھ سکے نہ کبھی زندگی کو یار
جب تک تمھاری تار سے جھٹکا نہیں لگا

کیسے اٹھائے پھرتے ہیں جِسموں کا بوجھ سب
ہم کو تو دل کا بوجھ بھی ہلکا نہیں لگا

اب ہاتھ مت لگا ,یُونہی اُکھڑا رہے یہ رنگ
اے زندگی تو اب ہمیں چُونا نہیں لگا

فیصل محمود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم