MOJ E SUKHAN

اچھا یہ کرم ہم پہ تو صیاد کرے ہے

اچھا یہ کرم ہم پہ تو صیاد کرے ہے
پر نوچ کے اب قید سے آزاد کرے ہے

چپ چاپ پڑا رہوے ہے بیمار تمہارا
نالہ ہی کرے ہے نہ وہ فریاد کرے ہے

اے باد صبا ان سے یہ کہہ دیجیو جا کر
پردیس میں اک شخص تمہیں یاد کرے ہے

فرزانہ اجاڑے ہے بھرے شہروں کو لیکن
دیوانہ تو صحرا کو بھی آباد کرے ہے

آوے ہے تیرا نام تو ہنس دیوے ہے اکثر
دیوانہ تیرا یوں بھی تجھے یاد کرے ہے

نسبت ہے نگینے سے یہ بولی ہے ہماری
کیا ناقد فن ہم سے تو ارشاد کرے ہے

لکھ لکھ کے مٹا دیوے ہے تو نام یہ کس کا
سچ کہیو سروشؔ آج کسے یاد کرے ہے

رفعت سروش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم