MOJ E SUKHAN

اڑاتے آئے ہیں آپ اپنے خواب زار کی خاک

غزل

اڑاتے آئے ہیں آپ اپنے خواب زار کی خاک
یہ اور خاک ہے اک دشت بے کنار کی خاک

یہ میں نہیں ہوں تو پھر کس کی آمد آمد ہے
خوشی سے ناچتی پھرتی ہے ریگزار کی خاک

ہمیں بھی ایک ہی صحرا دیا گیا تھا مگر
اڑا کے آئے ہیں وحشت میں بے شمار کی خاک

ہمیں مقیم ہوئے مدتیں ہوئیں لیکن
سروں سے اب بھی نکلتی ہے رہ گزار کی خاک

یہ حال ہے کہ ابھی سے کھنک رہے ہیں ظروف
ابھی گندھی نہیں جن میں سے بے شمار کی خاک

سنا ہے ڈھونڈتے پھرتے ہیں کب سے کوزہ گراں
ہماری آنکھ کا پانی ترے دیار کی خاک

عجب نہیں کہ مجھے زندہ گاڑنے والے
کل آ کے پھانک رہے ہوں مرے مزار کی خاک

رحمان حفیظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم