MOJ E SUKHAN

اڑے نہیں ہیں اڑائے ہوئے پرندے ہیں

غزل

اڑے نہیں ہیں اڑائے ہوئے پرندے ہیں
ہمیں نہ چھیڑ ستائے ہوئے پرندے ہیں

قفس میں قید کرو یا ہمارے پر کاٹو
تمہارے جال میں آئے ہوئے پرندے ہیں

ہوا چلے گی تو بچے اڑائیں گے ان کو
یہ کاغذوں سے بنائے ہوئے پرندے ہیں

جمے ہوئے ہیں یہ شاخوں پہ اس طرح جیسے
شجر کے ساتھ اگائے ہوئے پرندے ہیں

فلک پہ جن کو ستارے سمجھ رہے ہیں لوگ
وہ چاندنی میں نہائے ہوئے پرندے ہیں

بلندیاں ہیں ہمارے مزاج میں شامل
بلندیوں سے گرائے ہوئے پرندے ہیں

ہمارے پاس ہی آئیں گے لوٹ کر باقیؔ
ہمارے جتنے سدھائے ہوئے پرندے ہیں

باقی احمد پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم