MOJ E SUKHAN

اکثر جوئے کے کھیل میں ہاری گئی ھوں میں

اکثر جوئے کے کھیل میں ہاری گئی ھوں میں
غیرت کے نام پر بھی تو ماری گئی ھوں میں

صیاد زیوروں میں جکڑتا رہا مجھے
پنجرے میں ڈالنے کو سنواری گئی ھوں میں

ناکردہ گناہوں کی سزا بھوگ رہی ھوں
شعلوں سے کئی بار گزاری گئی ھوں میں

کیوں پھر سے کٹہرے میں بلایا گیا مجھے
کیوں پھر صلیب پر سے اتاری گئی ھوں میں

ھے روح داغدار مرے اجلے بدن کی
لہجے کی مار ، مار کے ماری گئی ھوں میں

پھر سے تمہاری یاد دلائی گئی مجھے
پھر سے اسی گلی سے گزاری گئی ھوں میں

تنہائیاں تمہارا پتہ پوچھنے لگیں
جس دن سے زندگی سےتمہاری گئی ھوں میں

میں آسماں پہ چاند ستاروں کی صف میں تھی
تیرے لیئے زمیں پہ اتاری گئی ھوں میں

تم نے جو مسکرا کے تبسم کہا مجھے
تم پر تمہارے نام پہ واری گئی ھوں میں

"جہاںآراء تبسم”

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم