MOJ E SUKHAN

اکیلے ہیں وہ اور جھنجھلا رہے ہیں

اکیلے ہیں وہ اور جھنجھلا رہے ہیں
مری یاد سے جنگ فرما رہے ہیں

یہ کیسی ہوائے ترقی چلی ہے
دیے تو دیے دل بجھے جا رہے ہیں

الٰہی مرے دوست ہوں خیریت سے
یہ کیوں گھر میں پتھر نہیں آ رہے ہیں

بہشت تصور کے جلوے ہیں میں ہوں
جدائی سلامت مزے آ رہے ہیں

قیامت کے آنے میں رندوں کو شک تھا
جو دیکھا تو واعظ چلے آ رہے ہیں

بہاروں میں بھی مے سے پرہیز توبہ
خمارؔ آپ کافر ہوئے جا رہے ہیں

خمار بارہ بنکوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم