MOJ E SUKHAN

اک بے ثبات عکس بنا بے نشاں گیا

اک بے ثبات عکس بنا بے نشاں گیا
میں گنج بے بہا تھا مگر رائیگاں گیا

بھٹکا میں اپنی ذات کی وسعت میں سو بہ سو
میں اپنی جستجو میں کراں تا کراں گیا

تحریر اک اور تیر کے تحلیل ہو گئی
اک اور نقش لوح‌ زمان و مکاں گیا

قائم ہوئے دلوں کے ابد موج رابطے
اک جنبش نظر میں غم دو جہاں گیا

کیا کیا چھپے نہ سبز رداؤں میں ریگزار
کیا کیا نہ لطف سختیٔ دشت تپاں گیا

جادو کا تھا دیار کوئی یا طلسم وہم
یہ دم زدن میں شہر کا منظر کہاں گیا

در کیا کھلے بشیرؔ خلائے بسیط کے
دل سے ہزار وسوسہ‌ٔ آسماں گیا

بشیر احمد بشیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم