MOJ E SUKHAN

اک دیے کی لو کف صد آئینہ چمکا گئی

غزل

اک دیے کی لو کف صد آئینہ چمکا گئی
روشنی کی اک کرن مہتاب کو شرما گئی

ہاتھ ملتا دن کسی امید پر منتج ہوا
خستگی بڑھتی ہوئی دیوار شب تک آ گئی

اشک شوئی کے لیے تیری حمایت چاہئے
دیکھ تیری ہم سبوئی میں یہ نوبت آ گئی

عذر خواہانہ نگاہیں حرف چنتی رہ گئیں
باز پرساں خامشی اپنی کہی منوا گئی

کب تلک یہ عالم دل بستگی دل خستگی
دھڑکنوں کو یہ مشقت ہو نہ ہو راس آ گئی

شب تری تصویر کا بوسہ لیا اور یک بہ یک
اک نمی سی تھی کہ عکس و آئنہ دھندلا گئی

دل کی حالت کو اگر تعبیر کیجے عشق سے
منزلوں کے پھیر میں پھر فہم دھوکا کھا گئی

شاعری شرما رہی ہے آج اس کو دیکھ کر
زندگی اک خوب صورت آدمی کو کھا گئی

یہ نہیں رہنے کی جائے چشم حیراں یاں سے چل
درشنی جلووں کی بستی میں نظر چندھیا گئی

عبیرہ احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم