اک سرِ دیوار پنچھی بیٹھ کر، سمجھا گیا
وہ مِرا گھر ہی نہیں تھا جس کو گھر سمجھا گیا
شہرِ نابینا میں ہی سب آئینے بیچے گئے
معتبر تھا کون، کس کو معتبر سمجھا گیا
بات تو کچھ بھی نہیں تھی، جسقدر سمجھی گئی
کیا اِدھر سمجھا گیا تھا، کیا اُدھر سمجھا گیا
پھر کسی لڑکی کی شادی ہو گئی قرآن سے
سانحہ تھا جس کو چھوٹی سی خبر سمجھا گیا
سوچتا ہوں میں صغیر آدھی صدی چلنے کے بعد
وہ فقط آوارگی تھی، جو سفر سمجھا گیا
صغیر احمد صغیر