اک مشورہ تو دے مجھے عرصے سے تنگ ہوں
خیمہ الگ لگا لوں؟ قبیلے سے تنگ ہوں
ملتے ہیں روز صحن میں کچھ دل پڑے ہوئے
پیپل کے پیڑ تیرے رویے سے تنگ ہوں
میرے بنائے رنگ دھنک نے چرا لیے
اک تو میں آسمانی دوپٹے سے تنگ ہوں
اب اور یہ تماشا نہیں دیکھنا مجھے
پتھر تلاش آئینہ خانے سے تنگ ہوں
یعنی کہ اختلاف کا بھی حق نہیں مجھے
استاد ہے زمانہ ، زمانے سے تنگ ہوں
مدت سے پی رہا ہے سہولت کے ساتھ خون
مچھر مزاج دوست ہے سالے سے تنگ ہوں
تجھ سے نظر ملی ہے نظریہ نہیں ملا
ہرمن سے دور بیٹھا ہوں نطشے سے تنگ ہوں
مالک مرے حریف کو تھوڑا سا ظرف دے
ماتھے پہ اتنے زخم ہیں سجدے سے تنگ ہوں
جاری ہے اہتمام سے مذہب کی توڑ پھوڑ
ساجد جنابِ پیر کے حجرے سے تنگ ہوں
لطیف ساجد