اک ملاقات کے اثر میں رہے
عمر بھر ایک ہی سفر میں رہے
بھیڑ یوں بھی ہمیں پسند نہ تھی
کم نہیں ہے کے اک نظر میں رہے
لوگ اوروں کے بل پہ اُڑتے تھے
ہم مگر اپنے بال و پر میں رہے
وہ بھی تو انتخاب ِ خاص ہی ہے
ہم بھی فہرست ِ مختصر میں رہے
کتنے جزبوں کو مل سکی نہ زباں
بنت ِ حوا تھے اپنے ڈر میں رہے
لوگ دنیا کی سمت جاتے تھے
ہم محبت کی راہ گزر میں رہے
بے تقدس نہیں کیا آنچل
گھر سے باہر بھی جیسے گھر میں رہے۔
شاہدہ عروج خان