MOJ E SUKHAN

اک ملاقات کے اثر میں رہے

اک ملاقات کے اثر میں رہے
عمر بھر ایک ہی سفر میں رہے

بھیڑ یوں بھی ہمیں پسند نہ تھی
کم نہیں ہے کے اک نظر میں رہے

لوگ اوروں کے بل پہ اُڑتے تھے
ہم مگر اپنے بال و پر میں رہے

وہ بھی تو انتخاب ِ خاص ہی ہے
ہم بھی فہرست ِ مختصر میں رہے

کتنے جزبوں کو مل سکی نہ زباں
بنت ِ حوا تھے اپنے ڈر میں رہے

لوگ دنیا کی سمت جاتے تھے
ہم محبت کی راہ گزر میں رہے

بے تقدس نہیں کیا آنچل
گھر سے باہر بھی جیسے گھر میں رہے۔

شاہدہ عروج خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم