MOJ E SUKHAN

اک پرندہ یہ کہنے کو کالا سا ہے

اک پرندہ یہ کہنے کو کالا سا ہے
نام کوئل ہے اس کا سریلی ہے یہ
گانا گاتی ہے بیٹھے درختوں پہ جب
آنکھیں اس کی مٹکتی ہیں کوکے وہ جب
پیڑ پودوں پہ اس کا بنا گھونسلہ
رات ڈھلتے ہی اس کا چلے قافلہ
دانہ دنکا یہ کھاتی ہے آرام سے
گیت پھر یہ سناتی ہے اک شان سے
رنگ کالا ہے آنکھوں میں موتی جڑے
نام کوئل ہے اس کا سریلی ہے یہ

نسیم شیخ

Facebook
Twitter
WhatsApp