MOJ E SUKHAN

اک پل ترے خیال سے غافل نہیں ہوئے

اک پل ترے خیال سے غافل نہیں ہوئے
ہم تیرے بے وفاؤں میں شامل نہیں ہوئے

ہم عمر بھر سمجھتے رہے پارسا جنہیں
وہ لوگ پارساؤں میں شامل نہیں ہوئے

شاید کہ کھل گئی تھی حقیقت نباہ کی
لمحے جدائیوں کے جو مشکل نہیں ہوئے

کچھ بھید تو ضرور ہے اس زیر و بم کے بیچ
گہرے سمندروں سے جو ساحل نہیں ہوئے

امید کچھ ہے راہ پہ آنے کی دوستو
بھٹکے ہوئے ضرور ہیں باطل نہیں ہوئے

تنہا رجب گزار دی فرقت میں زندگی
لمحے ترے وصال کے حاصل نہیں ہوئے

رجب چودھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم