MOJ E SUKHAN

اک ہتھیلی پہ اک دروں ہوتا

اک ہتھیلی پہ اک دروں ہوتا
دل زمانے سے چہ مگوں ہوتا

بن کے اک جھیل عمر بھر بہتی
آنکھ کا رنگ نیل گوں ہوتا

سوچتی ہوں کہ عشق گر تم سے
ہو بھی جاتا اگر تو کیوں ہوتا

کس کے قدموں پہ سجدہ گاہ ہوتی
کس کے در پر یہ سر نگوں ہوتا

بات کرنے سے حل ہوا ورنہ
مسئلہ اب بھی جوں کا توں ہوتا

یہ تو اچھا ہے چھوڑ دی بستی
ورنہ سر پر سوار خوں ہوتا

سلسلہ مختصر تھا فرقت کا
وہ مرے حافظے میں کیوں ہوتا

کاش سیما کی مان لیتے وہ
کاش دل اپنا پُر سکوں ہوتا

عشرت معین سیما

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم