MOJ E SUKHAN

اک یاد کی موجودگی سہہ بھی نہیں سکتے

غزل

 

اک یاد کی موجودگی سہہ بھی نہیں سکتے
یہ بات کسی اور سے کہہ بھی نہیں سکتے

تو اپنے گہن میں ہے تو میں اپنے گہن میں
دو چاند ہیں اک ابر میں گہ بھی نہیں سکتے

ہم جسم ہیں اور دونوں کی بنیادیں امر ہیں
اب کیسے بچھڑ جائیں کہ ڈھہ بھی نہیں سکتے

دریا ہوں کسی روز معاون کی طرح مل
یہ کیا کہ ہم اک لہر میں بہہ بھی نہیں سکتے

خواب آئیں کہاں سے اگر آنکھیں ہوں پرانی
اور صبح تک اس خوف میں رہ بھی نہیں سکتے

ساقی فاروقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم