MOJ E SUKHAN

اگرچہ سامنے میرے فقط خلا نا تھا

اگرچہ سامنے میرے فقط خلا نا تھا
نہ ہمسفر نہ کوئی آخری ٹھکانہ تھا

مرے وجود سے آگے بھی اک زمانہ ہے
مرے وجود سے پہلے بھی اک زمانہ تھا

میں یوں بھی خود سے ملاقات سے گریزاں ہوں
وفورِ زخم کا تو بس یہ اک بہانہ تھا

دیارِ غیر سے آئے ہوئے امیروں نے
غریبِ شہر سے رشتہ کہاں نبھانا تھا

اُسی گلی میں ابھی اک فقیر رہتا ہے
جہاں پہ اپنا کسی دور میں خزانہ تھا

ہزار بار ملا ہوں اسے تصور میں
وہ جس سے میرا تعلق بھی غائبانہ تھا

میں دل کا بوجھ اُٹھائے ہوئے جو پھرتا ہوں
نجانے کس کے تخیل کا یہ فسانہ تھا

بچھڑ گئے ہیں مرے دل میں رہنے والے لوگ
عروسِ مرگ نے یہ کھیل بھی دکھانا تھا

ہوا کی سرد ہتھیلی پہ آگیا ہوں ولی
اسی پہاڑ پہ اپنا بھی آب و دانہ تھا

شاہ روم خان ولی

Shah room Khan Wali

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم