MOJ E SUKHAN

اگرچہ میں خط جادہ پہ اک گرد سفر ہوں

اگرچہ میں خط جادہ پہ اک گرد سفر ہوں
کھٹکتا ہوں مگر پھر بھی کہ منزل کی خبر ہوں

یہ موج خوں ہے سیرابیٔ دل کا اک اشارہ
سو اک خاک نمو رفتہ پہ ہی محو سفر ہوں

یہ عمر خاک پیما اک تمنا سے بھی کم ہے
سو کتنی خواہشوں سے میں ابھی تک بے خبر ہوں

کھلے ہیں رنگ امکانات آئندہ کے مجھ پر
نرالی میری خوشبو ہے میں مٹی کا شجر ہوں

جمال ساعت صد رنگ کو میں شعر کر دوں
میں کب سے اس جنوں انگیز کے زیر اثر ہوں

تہ سطر تمنا دیکھ لوں دل کا تڑپنا
زیادہ تو نہیں اتنا تو میں صاحب نظر ہوں

جاوید احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم