MOJ E SUKHAN

اگر دینا ہو دل کی داد جتنا اس کا جی چاہے

غزل

اگر دینا ہو دل کی داد جتنا اس کا جی چاہے
تو کرنے دو اسے فریاد جتنا اس کا جی چاہے

ملی ہیں یار کی گلیاں ہمیں مجنوں سے یہ کہیو
کرے ویرانے کو آباد جتنا اس کا جی چاہے

نہیں ممکن کہ ہم کعبہ کو جائیں چھوڑ بت خانہ
کرے واعظ ہمیں ارشاد جتنا اس کا جی چاہے

وفا کا طوق ہے قمری صفت جزو بدن میرا
کرے جور و ستم صیاد جتنا اس کا جی چاہے

یقیںؔ مجھ بن نہیں ہے قدرداں کوئی مصیبت کا
فلک مجھ پر کرے بیداد جتنا اس کا جی چاہے

انعام اللہ خاں یقیں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم