MOJ E SUKHAN

اہل جہاں کے ساتھ وفا یا جفا کروں

غزل

اہل جہاں کے ساتھ وفا یا جفا کروں
میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہے کیا کروں

یہ درد دل تو حاصل عمر دراز ہے
میں اس کو اپنی ذات سے کیوں کر جدا کروں

دنیا یہی کرے گی تو دنیا سے پیشتر
مجروح کیوں نہ خود ہی میں اپنی انا کروں

دنیا میں کون ہے جو نہیں ہے مرے خلاف
اک تم ہی رہ گئے ہو تمہیں بھی خفا کروں

ہر زاویے سے زیست نے رسوا کیا مجھے
کس رخ سے اپنی ذات کا اب سامنا کروں

احسان جو اٹھائے ہیں اوروں کے واسطے
اوروں پہ ہیں وہ قرض مگر میں ادا کروں

آنکھوں کو نیند کی بھی رفاقت نہیں نصیب
میں شمع تو نہیں کہ سحر تک جلا کروں

حسرت ہی رہ گئی کہ بہاروں کے درمیاں
تیرے بغیر بھی تو کبھی خوش رہا کروں

بیگانگی کو چھوڑ کے فطرت بھی ہنس پڑے
آدم کے نام پر کوئی ایسی خطا کروں

جب کرب آگہی میں ہوں اے لیثؔ آج کل
اس کرب آگہی سے کسے آشنا کروں

لیث قریشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم