MOJ E SUKHAN

ایسا ایک مقام ہو جس میں دل جیسی ویرانی ہو

ایسا ایک مقام ہو جس میں دل جیسی ویرانی ہو
یادوں جیسی تیز ہوا ہو درد سے گہرا پانی ہو

ایک ستارہ روشن ہو جو کبھی نہ بجھنے والا ہو
رستہ جانا پہچانا ہو رات بہت انجانی ہو

وہ اک پل جو بیت گیا اس میں ہی رہیں تو اچھا ہے
کیا معلوم جو پل آئے وہ فانی ہو لافانی ہو

منظر دیکھنے والا ہو پر کوئی نہ دیکھنے والا ہو
کوئی نہ دیکھنے والا ہو اور دور تلک حیرانی ہو

ایک عجیب سماں ہو جیسے شعر منیرؔ نیازی کا
ایک طرف آبادی ہو اور ایک طرف ویرانی ہو

اکبر معصوم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم