MOJ E SUKHAN

ایسا کر سکتے تھے کیا کوئی گماں تم اور میں

ایسا کر سکتے تھے کیا کوئی گماں تم اور میں
ایسے تنہا نظر آئیں گے یہاں تم اور میں

بزم آراستہ ہوگی تو نمایاں ہوں گے
کسی تنہائی میں شاید ہیں نہاں تم اور میں

رہ گزر ختم ہوئی جاتی ہے آگے جا کر
چھوڑ آئے ہیں کہاں اپنا نشاں تم اور میں

جھلملاتی ہے کہیں پر کسی امکان کی لو
اسی امکان کی جانب نگراں تم اور میں

بے حسی شرط ہی ٹھہری تھی رفاقت میں اگر
کس لیے کرتے رہے جاں کا زیاں تم اور میں

ایک انکار کی خواہش کو چھپائے دل میں
گرد اقرار میں بیٹھے ہیں میاں تم اور میں

اب تھکن جسم میں اتری ہے تو آتا ہے خیال
کن ہواؤں میں رہے رقص کناں تم اور میں

میں نے پوچھا کہ کوئی دل زدگاں کی ہے مثال
کس توقف سے کہا اس نے کہ ہاں تم اور میں

کس کی آواز تعاقب میں چلی آئی رضیؔ
اس سے پہلے بھی تو آئے تھے یہاں تم اور میں

خواجہ رضی حیدر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم