MOJ E SUKHAN

ایسی حالت جو ترے شہر نے کر دی میری

ایسی حالت جو ترے شہر نے کر دی میری
اس سے بہتر تھی کہیں دشت نوردی میری

پھول ہوں برگ خزاں دیدہ کی تمثیل نہیں
آپ سرسوں سے ملا سکتے ہیں زردی میری

کوئی خورشید ہے اس شخص کی پیشانی میں
ایک بوسے سے اتر جاتی ہے سردی میری

تنگ دامن ہوں کہاں عرض_تمنا رکھوں
تو نے جھولی تو شکایات سے بھر دی میری

اس نے آئینہ دکھانے میں بھی ابہام رکھا
ایک تصویر مرے سامنے دھر دی میری

پھوٹ پڑتا ہے کسی کوہ سے جیسے چشمہ
کوئی الجھن بھی نکل آئی ہے دردی میری

کس کو ہے دشت نوردی کا سلیقہ ساجد
کون پہنے گا اتاری ہوئی وردی میری

لطیف ساجد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم