MOJ E SUKHAN

ایسے بھڑکے درد ہمارے

ایسے بھڑکے درد ہمارے
جذبے ہوگئے سرد ہمارے

ہم پر ہاتھ اٹھانے والے
نامردوں سے مرد ہمارے

ہم سے رنگ زمانے بھر میں
پھر بھی چہرے زرد ہمارے

جسموں کے سوداگر ہیں یہ
ظاہر میں ہمدرد ہمارے

اندر سے پانی پانی ہیں
سارے صحرا گرد ہمارے

رفعت وحید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم