MOJ E SUKHAN

ایک اک آنسو پلکوں کے پہرے میں رکھنا ہے

ایک اک آنسو پلکوں کے پہرے میں رکھنا ہے
میں نے اپنا دکھ اپنے قبضے میں رکھنا ہے

طوطے پالنے والے کواتنا معلوم نہ تھا
کونسا طوطا لیکر کس پنجرے میں رکھنا ہے

بییٹھے رہنا ہے بیری کی چھدری چھاؤں میں
اور اک گہری بدلی کو چرچے میں رکھنا ہے

میں نے دنیا کو چھوڑا یا دنیا نے مجھ کو
اپنی تنہائ کو کس کھاتے میں رکھنا ہے

پوچھنا یہ تھا کونسے رستے سے تم آؤ گے
میں نے اپنا پھول سا دل رستے میں رکھنا ہے

سعید صاحب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم