MOJ E SUKHAN

ایک اک لفظ میں ہے صندلیں جذبوں کا بہاؤ

غزل

ایک اک لفظ میں ہے صندلیں جذبوں کا بہاؤ
تیرے لہجے میں ہے کس جوئے رواں کا ٹھہراؤ

پھر ہوئی شام کرے دل کی تواضع کا خیال
کوئی بھولا ہوا منظر کوئی رستا ہوا گھاؤ

کوئی پتھر کسی کوچے میں نہ رہنے پائے
آج کرنا ہے کسی شیش محل پر پتھراؤ

میں پگھل جاؤں نہ سانسوں کی حرارت سے کہیں
پاس اتنے بھی نہ آؤ کہ اکیلے رہ جاؤ

چلچلاتی ہوئی یہ دھوپ یہ سنسان ڈگر
اب جو نکلے ہو سفر کو تو ذرا لطف اٹھاؤ

سونپ جائے نہ کہیں راکھ کا تحفہ یہ بھی
دل میں اب تک جو سلگتا ہے ترے غم کا الاؤ

گنگناؤ قمر اقبالؔ کی غزلیں لیکن
اک غزل اس کی اسے بھی تو کسی روز سناؤ

قمر اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم