MOJ E SUKHAN

ایک تو مہنگائی اس پر لوڈ شیڈنگ کیا کروں

Aik to Mehngai us per load Sheeding Kia Karoon

غزل

ایک تو مہنگائی اس پر لوڈ شیڈنگ کیا کروں
زندگی نے کی ہے مجھ سے ایسی ریگنگ کیا کروں

سر سلامت ہے نہ ہے جب دسترس میں کچھ مرے
اے محبت تجھ سے پھر میں ہینڈ شیکنگ کیا کروں

ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں حسرت و ارمان و خواب
ہے سفر درپیش اس پر یار پیکنگ کیا کروں

گھر کے اندر جب مرے ہو ڈالروں کی گھن گھرج
پھر میں دیواروں سے مل کر میچ فکسنگ کیا کروں

کچھ نہیں چھوڑا کچن میں کھا گئے نوکر مرے
منہ چڑاتا ہے وہ اوون ہائے بیکنگ کیا کروں

ہوں مریدِ میر و جعفر میر صادق حکمراں
کاتبِ تقدیر پھر میں تجھ سے سیٹنگ کیا کروں

دے دیا دھرنا مرے بچوں نے بھی میرے خلاف
کر نہیں سکتا میں ان پر یار شیلنگ کیا کروں

مسئلوں کے حل میں بھی ہوں مسئلے جب بے شمار
اے گگل شہ رگ سے تیری ڈون لوڈنگ کیا کروں

نشر میرے گھر کی ہر تصویر اب ہونے لگی
منقطع ہوں سلسلے میں نذرِ ریلنگ کیا کروں

رنج و غم بھی ہوگئے آسان مجھ پر اب یہاں
میں عیاں موجِ نسیمی دل کی فیلنگ کیا کروں

اک ظریفانہ غزل کو گھیرنے کے واسطے
تم بتاؤ اس سے بڑھ کر پیلا پیلنگ کیا کروں

نسیم شیخ

Naseem Shaikh

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم