MOJ E SUKHAN

ایک در اور دستکوں کا سلسلہ دونوں طرف – Aik dar or dastakon ka silsila dono taraf

ایک در اور دستکوں کا سلسلہ دونوں طرف
کون ہے جاکر مجھے کہنا پڑا دونوں طرف

بارہا زنجیر نےکھلنے کی کوشش خود بھی کی
بارہا اک ہاتھ بڑھ کر رک گیا دونوں طرف

گرچہ دونوں آنگنوں کے در مقفل تھے مگر
لاتی لیجاتی رہی خوشبو ہوا دونوں طرف

اس لیے بھی ہجر لازم ہو گیا طرفین پر
ہو گئی حاوی محبت پر انا دونوں طرف

پھر اچانک دونوں جانب سے بلاوا آ گیا
اور میں تقسیم ہو کر چل پڑا دونوں طرف

دائیں بائیں دیکھنے کا فائدہ بازار میں
مل رہا ہو جب ہمیں اچھا برا دونوں طرف

سرحدوں کے دونوں جانب تھے عقائد مختلف
ایک جیسا تھا مگر زورِ وبا دونوں طرف

ہائے جو احباب مجبورا” ہماری صف میں تھے
دیکھ کر یہ ماجرا ان کو گنا دونوں طرف

گردشیں اک سمت کی ہیں اس لیے چکرا گئے
اب زرا سا روک کر دنیا گھما دونوں طرف

آئینے کے سامنے روشن کیا خود کو حسن
بجھ گئے سارے دیئے جب میں جلا دونوں طرف

احتشام حسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم