ایک در اور دستکوں کا سلسلہ دونوں طرف
کون ہے جاکر مجھے کہنا پڑا دونوں طرف
بارہا زنجیر نےکھلنے کی کوشش خود بھی کی
بارہا اک ہاتھ بڑھ کر رک گیا دونوں طرف
گرچہ دونوں آنگنوں کے در مقفل تھے مگر
لاتی لیجاتی رہی خوشبو ہوا دونوں طرف
اس لیے بھی ہجر لازم ہو گیا طرفین پر
ہو گئی حاوی محبت پر انا دونوں طرف
پھر اچانک دونوں جانب سے بلاوا آ گیا
اور میں تقسیم ہو کر چل پڑا دونوں طرف
دائیں بائیں دیکھنے کا فائدہ بازار میں
مل رہا ہو جب ہمیں اچھا برا دونوں طرف
سرحدوں کے دونوں جانب تھے عقائد مختلف
ایک جیسا تھا مگر زورِ وبا دونوں طرف
ہائے جو احباب مجبورا” ہماری صف میں تھے
دیکھ کر یہ ماجرا ان کو گنا دونوں طرف
گردشیں اک سمت کی ہیں اس لیے چکرا گئے
اب زرا سا روک کر دنیا گھما دونوں طرف
آئینے کے سامنے روشن کیا خود کو حسن
بجھ گئے سارے دیئے جب میں جلا دونوں طرف
احتشام حسن