MOJ E SUKHAN

ایک سناٹا سا تقریر میں رکھا گیا تھا

ایک سناٹا سا تقریر میں رکھا گیا تھا
خواب ہی خواب کی تعبیر میں رکھا گیا تھا

آگہی روز ڈراتی رہی منزل سے مگر
حوصلہ پاؤں کی زنجیر میں رکھا گیا تھا

کون بسمل تھا بتا ہی نہیں سکتا کوئی
زخم دل سینۂ شمشیر میں رکھا گیا تھا

ساز و آواز کے ملنے سے اثر ہونے لگا
تیرا لہجہ مری تحریر میں رکھا گیا تھا

دامن حسن طلب زخم کی دولت کے سوا
درد بھی عشق کی جاگیر میں رکھا گیا تھا

ایک منظر میں خلا پر کیا تنہائی نے
میرا چہرہ وہیں تصویر میں رکھا گیا تھا

خود پرستی سے بچاتا رہا ہم زاد مرا
آئنہ نسخۂ اکسیر میں رکھا گیا تھا

زندگی موت کے پہلو میں نمو پاتی رہی
اک خرابہ یہاں تعمیر میں رکھا گیا تھا

تسنیم عابدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم