MOJ E SUKHAN

ایک شب میں کمرے کا روپ ڈھل گیا کیسے

غزل

ایک شب میں کمرے کا روپ ڈھل گیا کیسے
وہ تو گیلی لکڑی تھا رات جل گیا کیسے

ایک طرفہ چاہت بھی کیسا درد ہوتی ہے
میں ہوں آج تک پتھر وہ بدل گیا کیسے

کل تمام بستی میں سیل خوں بہا لیکن
ایک سر پھرا قاتل کل سنبھل گیا کیسے

وہ زمین زادوں کی خوں کشی کا عادی تھا
آج اپنا خوں پی کر دم نکل گیا کیسے

چاند کی حقیقت کو خوب جانتا ہوں میں
پھر بھی چاند راتوں کا جادو چل گیا کیسے

قیس رامپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم