MOJ E SUKHAN

ایک نیا موڑ دیتے ہوئے پھر فسانہ بدل دیجئے

ایک نیا موڑ دیتے ہوئے پھر فسانہ بدل دیجئے
یا تو خود ہی بدل جائیے یا زمانہ بدل دیجئے

تر نوالے خوش آمد کہ جو کھا رہے ہیں وہ مت کھائیے
آپ شاہین بن جائیں گے آب و دانہ بدل دیجئے

یہ وفا کا جنازہ میاں اور ڈھوئیں گے کتنے دنوں
جب وہ تسلیم کرتا نہیں، آپ شانہ بدل دیجئے

مجھ کو پالا تھا جس پیٹر نے، اُس کے پتے ہی دشمن ہوئے
کہہ رہی ہے کئی ڈالیاں، آشیانہ بدل دیجئے
(منظر بھوپالی)​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم