MOJ E SUKHAN

ایک پرندہ ٹہنی ٹہنی ڈولتا ہے

ایک پرندہ ٹہنی ٹہنی ڈولتا ہے
مجھ میں کوئی اُڑنے کو پر تولتا ہے

کوئی تو ہے جو تلخ سمندر کی تہ میں
چپکے چپکے میٹھا دریا گھولتا ہے

کنجِ چشم سے کنجِ لب تک آتے ہوئے
ڈھلتا آنسو لمحہ لمحہ بولتا ہے

سانس میں ریت کی لہریں کروٹ لیتی ہیں
اب میرے لہجے میں صحرا بولتا ہے

جیسے بوندیں دل پر دستک دیتی ہوں
جیسے کوئی دروازہ سا کھولتا ہے

(سعود عثمانی )

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم