ایک چپ کی صدا سمجھتے ہو
پتّھروں کا کہا سمجھتے ہو
قیدِ تنہائی کاٹنی ہے مجھے
وقت کا فیصلہ سمجھتے ہو
خون کی گردشوں میں شام ہو
خود کو مجھ سے جدا سمجھتے ہو
دسترس میں نہیں تمہارے جو
بس اُسی کو خدا سمجھتے ہو
زندہ درگور ہے محبت میں
تم جسے بے وفا سمجھتے ہو
سوچ تک کے کتر دئیے ہیں پَر
رشتے ناتوں کو کیا سمجھتے ہو
میرے خوابوں کو قتل کر ڈالا
رتجگوں کی سزا سمجھتے ہو
آخری سانس تک کرو گے ادا
پیار کا خوں بہا سمجھتے ہو
عشق آبِ حیات ہے اور تم
عشق کو لا دوا سمجھتے ہو
درد کی موت ہو گئی ہے ثبین
ضبط کی انتہا سمجھتے ہو
ثبین سیف