MOJ E SUKHAN

اے عشق تو نے واقف منزل بنا دیا

غزل

اے عشق تو نے واقف منزل بنا دیا
اب مرحلوں کو اور بھی مشکل بنا دیا

اللہ رے شوق قیس کی جلوہ طرازیاں
اکثر غبار دشت کو محمل بنا دیا

میں غرق ہو رہا تھا کہ طوفان عشق نے
اک موج بے قرار کو ساحل بنا دیا

ہم نے اک آہ سرد کو شمع سحر کے ساتھ
روداد ناتمام کا حاصل بنا دیا

اے دل یہ سب امیر سخنور کا فیض ہے
ذرہ کو جس نے جوہر قابل بنا دیا

دل شاہجہاں پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم