MOJ E SUKHAN

اے فلک یہ کیا ہوا اپنا یگانہ پھر گیا

غزل

اے فلک یہ کیا ہوا اپنا یگانہ پھر گیا
تو اکیلا کیا پھرا سارا زمانہ پھر گیا

تھی خوشی آنے کی ان کے آتے آتے رہ گئے
بخت برگشتہ بجا کر شادیانہ پھر گیا

کھاتے تھے انگور پیتے تھے شراب ارغواں
ہائے وہ ساقی پھرا کیا آب و دانہ پھر گیا

وائے ناکامی رہے محروم وصل یار سے
اپنے گھر آیا بھی اور کر کے بہانہ پھر گیا

اے مغنی اس تری آواز دل کش کے حضور
گل ہیں سینہ چاک بلبل کا ترانہ پھر گیا

کوچۂ گیسو میں جب پہنچا دل وحشت زدہ
روبرو آنکھوں کے اپنی قید خانہ پھر گیا

کہتے ہیں خلخال پائے یار کے وقت خرام
حشر پھر ہوگا بپا گر اک بھی دانہ پھر گیا

اڑ گیا جب توسن جذب اپنا ان کے ہجر میں
کی نہ جنبش اس نے روئے تازیانہ پھر گیا

تیری نظروں سے گرا جب سے کوئی پرساں نہیں
تو پھرا شیداؔ سے کیا سارا زمانہ پھر گیا

عبدالمجید خواجہ شیدا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم