MOJ E SUKHAN

اے مرے ماہ رو تری چشم ستارہ ساں کے بعد

غزل

اے مرے ماہ رو تری چشم ستارہ ساں کے بعد
چاند کی دید کیا کریں رویت کہکشاں کے بعد

بند قبائے آرزو کھولیے کس کے واسطے
دور سبو کا لطف کیا رخصت مے کشاں کے بعد

کیجے فراق سے وصال کہنہ سرائے عشق میں
نذر گزاریے کوئی اور بھی نقد جاں کے بعد

اے مرے دل دھڑک نہ یوں ٹوٹ نہ جائے یہ فسوں
بھید بھرے ہیں راستے جادۂ آسماں کے بعد

وہ جو سنہری دھند سی دیکھتے ہو سر افق
تم سے ملیں گے ہم وہیں عرصۂ جسم و جاں کے بعد

چاہت رائیگاں تلک تجھ کو نہ یاد آئیں ہم
آئیں گے یاد ہم تجھے حاصل رائیگاں کے بعد

شب کے سنہری جام میں تیری شبیہ دیکھتے
کھلتا اگر وہ مے کدہ رقص ستار گاں کے بعد

صائمہ زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم