MOJ E SUKHAN

"اے میرے دل”

اے میرے دل مجھے ایسی جگہ لے چل
جہاں دریا کی لہروں میں
روانی کے نظارے ہوں
فلک پر چاند تارے ہوں
جنوں آثار سارے ہوں
کسی کی چشم نغمہ ساز میں
خواب محبت کے اشارے ہوں
درختوں پر
بہاروں کا سماں ہو اور
جہاں تک بھی نظر جائے
گلوں کے درمیاں
اس جسم کی خوشبو کا ہر احساس جاگا ہو
اے میرے دل مجھے ایسی جگہ لے چل
جہاں رنگیں چکوروں کو پکڑنے کے لیے
بے تاب ہاتھوں میں جنوں کروٹ بدلتا ہے
جہاں پر کونپلوں میں پیار کی کرنیں پگھلتی ہیں
جہاں پتوں میں چاہت سے ہوائیں سرسراتی ہیں
لبوں پر لب مہکتے ہیں دعائیں گنگناتی ہیں
جہاں پر جسم کی عریانیاں چشم نظارہ میں
ہزاروں رنگ بھرتی ہیں
تمنائیں صدائے جسم میں آہنگ بھرتی ہیں
اے میرے دل مجھے ایسی جگہ لے چل
جہاں رنگوں کی بارش میں
محبت شاعری کا رقص کرتی ہو
جہاں دیوانگی اعضائے خفیہ میں
عضوئے ظاہری کا رقص کرتی ہو

رونق حیات

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم