MOJ E SUKHAN

اے میرے سر سبز خدا سارا شگفتہ

اے میرے سر سبز خدا
سارا شگفتہ

بین کرنے والوں نے

مجھے ادھ کھلے ہاتھ سے قبول کیا
انسان کے دو جنم ہیں

پھر شام کا مقصد کیا ہے
میں اپنی نگرانی میں رہی اور کم ہوتی چلی گئی

کتوں نے جب چاند دیکھا
اپنی پوشاک بھول گئے

میں ثابت قدم ہی ٹوٹی تھی
اب تیرے بوجھ سے دھنس رہی ہوں

تنہائی مجھے شکار کر رہی ہے
اے میرے سر سبز خدا

خزاں کے موسم میں بھی میں نے تجھے یاد کیا
قاتل کی سزا مقتول نہیں

غیب کی جنگلی بیل کو گھر تک کیسے لاؤں
پھر آنکھوں کے ٹاٹ پہ میں نے لکھا

میں آنکھوں سے مرتی
تو قدموں سے زندہ ہو جاتی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم