MOJ E SUKHAN

باتوں سے تیری بات کا پہلو نکل پڑے

باتوں سے تیری بات کا پہلو نکل پڑے
جیسے کسی بھی پُھول سے خوشبو نکل پڑے

دُنیا کے کام کاج سے فرصت ملی تو پھر
بستر سے تیری یاد کے بچّھو نکل پڑے

دن بَھر تمام پنچھی تجھے ڈھونڈھتے رہے
شَب کو تری تلاش میں جگنو نکل پڑے

ایسا شدید وجد کہ مت پُوچھیے حضُور
ہم رقص ہی کِیے تھے کہ گھنگرو نکل پڑے

پھینکا گیا تھا ہم کو بھی دریا کے بِیچ میں
پھر یوں ہوا کہ ہم بھی لبِ جُو نکل پڑے

فیصل محمود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم