MOJ E SUKHAN

باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں

غزل

باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں
سوچا ہے خموشی سے ہر اک زہر کو پی جائیں

اپنا تو نہیں کوئی وہاں پوچھنے والا
اس بزم میں جانا ہے جنہیں اب تو وہی جائیں

اب تجھ سے ہمیں کوئی تعلق نہیں رکھنا
اچھا ہو کہ دل سے تری یادیں بھی چلی جائیں

اک عمر اٹھائے ہیں ستم غیر کے ہم نے
اپنوں کی تو اک پل بھی جفائیں نہ سہی جائیں

جالبؔ غم دوراں ہو کہ یاد رخ جاناں
تنہا مجھے رہنے دیں مرے دل سے سبھی جائیں

حبیب جالب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم