MOJ E SUKHAN

بات بگڑی ہوئی بنی ہے ابھی

غزل

بات بگڑی ہوئی بنی ہے ابھی
اک نیا ربط باہمی ہے ابھی

مجھ کو ایسا گمان ہوتا ہے
نا مکمل سی زندگی ہے ابھی

باوجودے ہزار ناکامی
زندگی میں ہماہمی ہے ابھی

ایک بجلی سی ہے جو رہ رہ کر
گوشۂ دل میں کوندتی ہے ابھی

شوق سے آؤ قافلے والو
راہ منزل بلا رہی ہے ابھی

یوں تو تم بھی اداس اداس سے ہو
آنکھ میری بھی شبنمی ہے ابھی

زندگی کی تلاش میں ہوں میں
زندگی مجھ کو ڈھونڈھتی ہے ابھی

نظریہ ایک سا نہیں رہتا
عقل اور دل میں دشمنی ہے ابھی

خاک ڈالا کیے عدو ہر دم
پھر بھی اردو میں شستگی ہے ابھی

تم غزل کو نکھار لو گوہرؔ
چاند تاروں میں روشنی ہے ابھی

گلدیپ گوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم