غزل
بات بگڑی ہوئی بنی ہے ابھی
اک نیا ربط باہمی ہے ابھی
مجھ کو ایسا گمان ہوتا ہے
نا مکمل سی زندگی ہے ابھی
باوجودے ہزار ناکامی
زندگی میں ہماہمی ہے ابھی
ایک بجلی سی ہے جو رہ رہ کر
گوشۂ دل میں کوندتی ہے ابھی
شوق سے آؤ قافلے والو
راہ منزل بلا رہی ہے ابھی
یوں تو تم بھی اداس اداس سے ہو
آنکھ میری بھی شبنمی ہے ابھی
زندگی کی تلاش میں ہوں میں
زندگی مجھ کو ڈھونڈھتی ہے ابھی
نظریہ ایک سا نہیں رہتا
عقل اور دل میں دشمنی ہے ابھی
خاک ڈالا کیے عدو ہر دم
پھر بھی اردو میں شستگی ہے ابھی
تم غزل کو نکھار لو گوہرؔ
چاند تاروں میں روشنی ہے ابھی
گلدیپ گوہر