MOJ E SUKHAN

بات دل کو مرے لگی نہیں ہے

غزل

بات دل کو مرے لگی نہیں ہے
میرے بھائی یہ شاعری نہیں ہے

جانتی ہے مرے چراغ کی لو
کون سے گھر میں روشنی نہیں ہے

وہ تعلق بھی مستقل نہیں تھا
یہ محبت بھی دائمی نہیں ہے

میں جو قصہ سنا چکا تو کھلا
کوئی دیوار بولتی نہیں ہے

دیکھنے والی آنکھ بھی تو ہو
کون دریا میں جل پری نہیں ہے

بزدلا چھپ کے وار کرتا ہے
تجھ کو تہذیب دشمنی نہیں ہے

کیا کروں اس بہشت کو جس میں
ایک بوتل شراب کی نہیں ہے

تجھ سے ملنا بھی ہے نہیں بھی مجھے
اور طبیعت الجھ رہی نہیں ہے

کون سے شہر کے چراغ ہو تم
تم میں دم بھر کی روشنی نہیں ہے

جس کا چرچا ہے شہر میں عامیؔ
وہ غزل تو ابھی کہی نہیں ہے

عمران عامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم