MOJ E SUKHAN

بات سن اے چشم تر کچھ ہوش کر

غزل

بات سن اے چشم تر کچھ ہوش کر
ڈوب جائے گا یہ گھر کچھ ہوش کر

خود کشی ہی مسئلے کا حل ہے کیا
بام سے واپس اتر کچھ ہوش کر

دشت کی جانب چلا تو ہے مگر
سخت ہے یہ رہ گزر کچھ ہوش کر

اب کیا جذبات میں گر فیصلہ
روئے گا تو عمر بھر کچھ ہوش کر

مت پٹخ زنداں میں دیواروں پہ سر
خوں سے ہو جائیں گی تر کچھ ہوش کر

اپنی آزادی نہ دے صیاد کو
کاٹ کر خود اپنے پر کچھ ہوش کر

جس کو طاہرؔ تیری کچھ پروا نہیں
اس کی چوکھٹ پر نہ مر کچھ ہوش کر

طاہر حنفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم