MOJ E SUKHAN

بات کہنے کی نہیں طاقت شکایت کیا کروں

غزل

بات کہنے کی نہیں طاقت شکایت کیا کروں
عشق رخصت دے تو شور حشر اب برپا کروں

کج روی پر اس کی آتا ہے ڈبا دوں اشک سے
دود آہ دل سے اور ہی میں فلک پیدا کروں

دین و ایماں اور دل و جاں رونمائی دے چکے
ہے رہا کیا جو خریدار اس کا ہو سودا کروں

سن کے باتیں عقل کی ایذائیں کیا کیا تو نے دیں
مجھ کو پھر تو دل نہ کہیو جو نہ میں رسوا کروں

اول و آخر کو میرا عشقؔ کافی ہے مجھے
فکر بے جا ہے اگر امروز یا فردا کروں

خواجہ رکن الدین عشق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم