MOJ E SUKHAN

بات ہے اپنی مستند بے حد

بات ہے اپنی مستند بے حد
یونہی کرتے ہیں سب حسد بے حد

کر کے توصیف آپ اپنی ہم
خود بڑھا لیں گے اپنا قد بے حد

تیری قسمت پہ رشک آتا ہے
نام ہے تیرا خوش عدد بے حد

ہے شمار اپنا فیلسوفوں میں
ہم سے نالاں ہیں بے خرد بے حد

نیک طینت عزیز رکھتے ہیں
نام و ناموسِ ابّ و جد بے حد

راہِ ہستی میں ہے مجھے درکار
میرے خالق تری مدد بے حد

تجھ نگہ نے جو دی مرے دل کو
معتبر ہے وہ اک سند بے حد

لگ رہا ہے اُکھڑتی سانسوں سے
یاد کرنے لگی لحد بے حد

قیسِ دَوراں کے انتخاب کے وقت
نام ہوتے ہیں مسترد بے حد

ہم نے دیکھی یونہی سدا مصروف
یہ گزر گاہِ نیک و بد بے حد

بھا گیا میرے دل کو جو , اُس کے
خوبصورت ہیں خال و خد بے حد

عادِل اُس کو خدا ہدایت دے
یونہی رکھتا ہے مجھ سے کد بے حد

عادِل یزدانی چنیوٹ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم