MOJ E SUKHAN

بتوں کو بھول جاتے ہیں خدا کو یاد کرتے ہیں

بتوں کو بھول جاتے ہیں خدا کو یاد کرتے ہیں
برہمن جب سفر سوئے الہ آباد کرتے ہیں

نہ گردن مارتے ہیں وہ نہ دیتے ہیں کبھی پھانسی
حسینوں کو یہ سب مشہور کیوں جلاد کرتے ہیں

ستم ایجاد کہتے ہیں یہ کیوں معشوق کو شاعر
ستم بھی کیا کوئی شے ہے جسے ایجاد کرتے ہیں

ہمیں بتلا نہ دیں عاشق جو ہیں روئے کتابی پر
سبق ہے کیا کوئی معشوق جس کو یاد کرتے ہیں

ظریف لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم