غزل
بتوں کے ساتھ طبیعت کو آشنا کر کے
ہوئے خراب غرض دل کو مبتلا کر کے
بتا تو اے فلک فتنہ کار اس بت سے
لگا ہے ہاتھ ترے ہم کو کیا جدا کر کے
اب آگے دیکھیے کیا نبٹے اس کے درباں سے
ہم اس کے پہنچے ہیں در تک خدا خدا کر کے
کہاں ہے دل جو لگائیں کسی سے پہلے ہی
ہم اپنا بیٹھے ہیں دل صرف مدعا کر کے
کیا نہ فائدہ کچھ خاک چارہ گر آخر
مریض عشق کے نادم ہوئے دوا کر کے
اٹھایا ہاتھ جو عشق بتاں سے تم نے تو پھر
بسر کرو گے بھلا عیشؔ عمر کیا کر کے
حکیم آغا جان عیش