MOJ E SUKHAN

بدن چراتے ہوئے روح میں سمایا کر

غزل

بدن چراتے ہوئے روح میں سمایا کر
میں اپنی دھوپ میں سویا ہوا ہوں سایا کر

یہ اور بات کہ دل میں گھنا اندھیرا ہے
مگر زبان سے تو چاندنی لٹایا کر

چھپا ہوا ہے تری عاجزی کے ترکش میں
انا کے تیر اسی زہر میں بجھایا کر

کوئی سبیل کہ پیاسے پناہ مانگتے ہیں
سفر کی راہ میں پرچھائیاں بچھایا کر

خدا کے واسطے موقع نہ دے شکایت کا
کہ دوستی کی طرح دشمنی نبھایا کر

عجب ہوا کہ گرہ پڑ گئی محبت میں
جو ہو سکے تو جدائی میں راس آیا کر

نئے چراغ جلا یاد کے خرابے میں
وطن میں رات سہی روشنی منایا کر

ساقی فاروقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم